فهرس الكتاب

الصفحة 3132 من 4341

کتاب: قربانی سے متعلق احکام ومسائل

باب: اونٹ اور گائے( کی قربانی) کتنے افراد کی طرف سے کفایت کرسکتی ہے؟

3132 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَحَرْنَا بِالْحُدَيْبِيَةِ، مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْبَدَنَةَ، عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ، عَنْ سَبْعَةٍ»

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: ہم نے حدیبیہ میں نبی ﷺ کے ہمراہ ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے ارو ایک گائے سات افراد کی طرف سے ذبح کی ۔

پہلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ میں دس آدمی شریک ہوسکتے ہیںاور دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔امام مسلم ؒ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے متعدد احادیث روایت کی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج میں بھی اور عمرے میں بھی سات آدمیوں کو ایک اونٹ میں شریک کیا۔ (صحيح مسلم الحجباب جواز الاشتراك في الهديواجزاء البدنة والبقرة كل واحدة منهما عن سبعةحديث:1318) لیکن ان احادیث میں باہم کوئی تعارض نہیں کیونکہ اونت میں دس آدمیوں کی شرکت کا واقعہ عام قربانی کے موقع کا ہےجب کہ سات آدمیوں کی شرکت کا تعلق حج وعمرہ سے ہے۔بنابریں حج وعمرہ میں گائے اور اونٹ دونوں میں صرف سات سات افراد ہی شریک ہونگےجب کہ عام قربانی میں گائے میں سات اور اونٹ میں دس (10) افراد شریک ہوسکتے ہیں۔یہ فرق حدیث سے ثابت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت