314 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ فَقَالَ ائْتِنِي بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ هِيَ رِجْسٌ
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے اور فرمایا:'' مجھے تین پتھر لادو''۔ میں دو پتھر اور ایک لید لے آیا۔ آپ ﷺ نے دونوں پتھر لے لیے اور لید پھینک دی اور فرمایا۔ ''یہ ناپاک ہے۔''
اس سے معلوم ہوا کہ اگر تین ڈھیلے نہ ملیں تو دو ڈھیلوں پر بھی اکتفاء کیا جاسکتا ہے تاہم افضل یہی ہے کہ تین ڈھیلوں سے صفائی کی جائے۔یہ بھی احتمال ہے کہ تیسرا ڈھیلا آپ نے خود ڈھونڈ لیا ہو
2۔ساتھی یا شاگرد سے چھوٹی موٹی خدمت لینا درست ہے۔خصوصًا جب کہ وہ اس میں کراہت محسوس نہ کرتا ہو