315 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِنْجَاءِ ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ
سیدنا خزیمہ بن ثابت ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' استنجا میں تین پتھر ( استعمال ) ہوتے ہیں ، ان میں گوبر، لید نہ ہو۔''
: ( رجيع) كا لفظ گوبر لید اور انسانی فضلہ سب کے لیے بولا جاتا ہے یہاں اس کا ترجمہ گوبر اور لید اس لیے کیا گیا ہے کہ دوسری احادیث میں (روث) کا لفظ ہے جو گدھے گھوڑے وغیرہ کی لید کے لیے بولا جاتا ہے۔جب لید اور گوبر سے استنجا منع ہے تو انسانی فضلہ کا استعمال بدرجہ اولی منع ہوگااس سے ماقبل کی روایت سے بھی جو صحیح ہے گوبر اور لید کے عدم استعمال کا اثبات ہوتا ہے اس لیے معنًا یہ روایت بھی صحیح ہے۔