فهرس الكتاب

الصفحة 3195 من 4341

کتاب: ذبیحہ سے متعلق احکام ومسائل

باب: پالتو گدھوں کا گوشت

3195 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ خَيْبَرَ، فَأَمْسَى النَّاسُ، قَدْ أَوْقَدُوا النِّيرَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَامَ تُوقِدُونَ؟» قَالُوا: عَلَى لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ فَقَالَ: «أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَاكْسِرُوهَا» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَوْ نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ ذَاكَ»

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں خیبر کی جنگ لڑی ۔شام کو لوگوں نے (جگہ جگہ ) آگ روشن کی ۔نبی ﷺ نے فرمایا: تم کس چیز (کو پکانے ) کے لیے آگ جلا رہے ہو ۔ ؟ صحابہ نے عرض کیا: پالتو گدھوں کے گوشت کے لیے ۔ آپ نے فرمایا: ''ان (برتنوں ) میں جو کچھ ہے گرا دو ، اور ان (برتنوں) کو توڑ دو''ایک آدمی نے کہا: یا ( اگر آپ اجازت دیں تو ) ہم ان کے اندر جو کچھ ہے گرا دیں اور ان برتنوں کو دھو لیں ؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ''یا ایسے کرلو ۔''

1۔غلط کام کی اطلاع ملتے ہی سختی سے روک تھام کرنی چاہیے۔

2۔امام اور قائد یا عالم کو اپنے متبعین کے حالات سے باخبر رہنا چاہیے۔

3۔حرام چیز برتن میں ڈالنے یا پکانے سے برتن ناپاک ہوجاتا ہے

4۔ناپاک برتن دھونے سے ناپاک ہوجاتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت