فهرس الكتاب

الصفحة 3311 من 4341

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: بھنے ہوئے گوشت کابیان

3311 حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْجَزْءِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: «أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي الْمَسْجِدِ، لَحْمًا قَدْ شُوِيَ، فَمَسَحْنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ، ثُمَّ قُمْنَا نُصَلِّي، وَلَمْ نَتَوَضَّأْ»

حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء زبیدی ؓ سے روایت ہے'انھوں نے فرمایا:ہم نے رسول اللہﷺ کے ہمراہ مسجد میں کھانا کھایا جو بھنا ہوا گوشت تھا۔پھر ہم (زمین پر بچھی ہوئی) کنکریوں سے ہاتھ پونچھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے ہم نے (نیا) وضو نہیں کیا۔

1۔ مسجد میں کھانا کھانا جائز ہے ۔

2۔ بھنا ہوا گوشت کھانا درست ہے ۔

3۔ اللہ کی نعمتوں کے استعمال سے پرہیز کانام زہد نہیں بلکہ حرام سے اجتناب اور دنیا کے لالچ سے بچنا زہد ہے ۔

4۔ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔ دیکھیے: ( سنن ابن ماجہ حدیث:488۔493)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت