فهرس الكتاب

الصفحة 3423 من 4341

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام ومسائل

باب: کھڑے ہو کر پینا

3423 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ جَدَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا كَبْشَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَشَرِبَ مِنْهَا، وَهُوَ قَائِمٌ، فَقَطَعَتْ فَمَ الْقِرْبَةِ تَبْتَغِي بَرَكَةَ، مَوْضِعِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت کبشہ انصا ریہ ؓ سےروایت ہےکہ رسو ل اللہﷺ ان کے ہا ں تشریف کے گئے ۔ان کے پا س ایک مشک لٹکی ہوئی تھی ' چنانچہ آپﷺ نے کھڑے ہوکر اس سے پانی پی لیا ۔ کبشہ ؓؓ نے رسو ل اللہ ﷺ کے دہن مبا رک کی بر کت کے خیا ل سےمشک کا منہ کاٹ لیا ۔

نبی اکرمﷺ کے جسم مبارک سے مس ہونے والی اشیاء کو تبرک کے طور پر محفوظ رکھنا درست ہے۔کسی اور کے ساتھ یہ معاملہ درست نہیں صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین وتابعین رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو بکر وعمررضوان اللہ عنھم اجمعین جیسے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے آثار کو بھی تبرک کے لئے محفوظ نہیں فرمایا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت