3455 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا الْكَمْأَةَ، فَقَالُوا: هُوَ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السَّمِّ»
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بات چیت کررہے تھے کھمبی کا ذکر آگیا ۔ بعض حضرات نے کہا: یہ تو زمین کی چچک ہے ۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ نے فرمایا: ''کھمبی من ( کی قسموں میں ) سے ( ایک قسم ) ہے ۔ اور عجوہ کھجور جنت سے ہے اور وہ زہر سے شفا ہے ۔
جنت سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ برکت والی ہے۔یا کھجور کی یہ قسم جنت سے زمین پر آئی ہے۔جسطرح حجراسود جنت سے زمین پر بھیجا گیا ہے۔واللہ اعلم۔