فهرس الكتاب

الصفحة 3456 من 4341

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل

باب: کھمبی اور عجوہ کھجور

3456 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ، مِنَ الْجَنَّةِ» قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ: «حَفِظْتُ الصَّخْرَةَ مِنْ فِيهِ»

حضرت رافع بن عمرو مزنیؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ ارشاد سنا ''عجوہ اور صخرہ جنت سے (آئے ) ہیں ۔''

حضرت عبدالرحمن بن مہدی ﷫ نے کہا: میں نے صخرہ کا لفظ خود اپنے استاد (مشمعل بن ایاس مزنی ؓ) کےمنہ سے سنا ہے ۔

1۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداصحیح اور قابل حجت قراردیا ہے۔ اور دیگر محققین نے بھی اس کی سند کو تو صحیح قرار دیا ہے۔البتہ متن میں اضطراب کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ حدیث کے راوی مشمعل روایت بیان کرتے ہوئے کبھی تو صخرہ کا لفظ بولتے ہیں اور کبھی شجرۃ کا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی کو صحیح الفاظ یا دنہیں۔اور یہ ایسا تردد اور شک ہے جو اضطراب کہلاتاہے۔اور حدیث کےضعیف اور ناقابل حجت ہونے پر دلالت کرتاہے۔لہذا مذکورہ روایت سندا صحیح ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت نہیں۔تاہم عجوہ کے جنت سےہونے کا زکردوسری صحیح احادیث سے ملتاہے۔مذید تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (سنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم 3456وارواء الغلیل للبانی رقم 2696) 3۔بعض شارحین بیان کرتے ہیں کہ صخرہ سے مراد وہ چٹان ہے۔جو بیت المقدس کے شہر میں مسجد اقصیٰ میں ہے آج کل اس چٹان پرایک بڑا گنبد بنا ہواہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت