3571 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّ سَبَلَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کےپاس سے ایک قریشی نوجوان گزرا جو موٹے کپڑے کی چادر میں زمین پر گھسیٹ رہا تھا۔ انھوں نے فرمایا: بھتیجے ! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فر رہے تھے: جوشخص تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف (رحمت کی) نظر نہیں فرمائے گا۔
۱ ۔کسی کو غلط کام کرتے دیکھ کر فوراَ َ ٹوک دینا درست ہے۔ یہ نہ سوچا جائےکہ اس نے مسئلہ پہلے بھی تو سنا ہوگا۔
۲۔ غلطی پر متنبہ کرتے وقت غصے کے بجائے پیار سے بات کی جائے خاص طور پر اپنے سے چھوٹی عمر کے فرد کو بیٹا یا ایسا مناسب لفظ بول کر مخاطب کیا جا سکتا ہے۔