3709 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَنَا
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:میں نے نبی ﷺ سے (حاضر ہونے کی) اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا:میں۔نبی ﷺ نے فرمایا: میں ،میں۔
۱ ۔ اجازت طلب کرنے والے سے پوچھا جائےکون ہے؟ تو جواب میں اپنا نام یا لقب اور کنیت وغیرہ (جو چیز زیادہ معروف ہو ) بتانا چاہیے۔۲۔ نبی ﷺ کا میں میں فرمانا صحابی کے جواب پر ناپسندیدگی کا اظہار تھایعنی یہ طریقہ درست نہیں۳۔ دروازہ کھٹکھٹانا یا گھنٹی بجانا بھی اجازت طلب کرنے کے مفہوم میں داخل ہے۔ جب کوئی دروازے پر آ کر نام پوچھے تو سلام کر کے گفتگو کی جائے۔