3757 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی شاعر کی کہی ہوئی سب سے سچی بات لبید کا یہ کلام ہے: [أَلَا کُلُّ شَیۡ ءٍ مَا خَلَا اللہَ،بَاطِلُ] اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔ اور امیہ بن ابو صلت قریب تھا کہ مسلمان ہوجاتا۔
۱ ۔ حضرت لبید ؓ عرب کے ایک شاعر تھے جو مسلمان ہو گئے تھے۔ حضرت معاویہ ؓ کے دور خلافت میں فوت ہوئے۔۲۔ جو کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے وہی نیکی ہے۔ ۳۔ امیہ بن ابوصلت غیر مسلم شاعر تھالیکن اس کے شعرا چھے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے پسند فرمائے۔