3785 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ فَأَذْكَرْتُهُ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ
حضرت ابو سعید بن مُعلّٰی ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تجھ کو قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت نہ سکھاؤ؟ (اس کے بعد جب) نبی ﷺ مسجد سے باہر تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ کو یاد دہانی کرائی ۔آپ ﷺ نے فرمایا: (اَلۡحَمۡدُلِلہِ رََبِّ الۡعَالَمِیۡنَ) یہی سبع مثانی (سات بار بار دہرائی جانے والی آیات) ہیں اور یہی قرآن عظیم ہیں جو مجھے دیا گیا ۔
۱ ۔اس حدیث میں قرآن مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔: { وَلَقَد آتَيناكَ سَبعًا مِنَ المَثاني وَالقُرآنَ العَظيمَ} (الحجره 15: 87) " یقیناَ َ ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیات اور قرآن عظیم عطا فرمایا ہے۔" ۲۔ سورہ فاتحہ کو "سبع مثانی " اس لیے فرمایا گیا ہے کہ یہ ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔ ۳۔ سورہ فاتحہ کو "قرآن عظیم" کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ قرآن مجید کے تمام مضامین کا خلاصہ ہے، یعنی اس میں عقیدہ توحید، عملی توحید ، یعنی صرف اللہ کی عبادت اور صرف اس سے مدد مانگنا، اس کی صفات ، عقیدہ آخرت ، وعدہ ، وعید ، گزشتہ انبیاء اور ان کی امتوں کےنیک اور نا فرمان افراد کے واقعات سے عبرت اور اس کسے ہدایت کی درخواست جیسے اہم مضامین موجود ہیں۔ ۴۔ اہم مسئلہ سمجھانے سے پہلے اس سمجھنے کا شوق پیدا کر دیا جائے تو وہ اچھی طرح سمجھ میں آتا ہے اور یاد رہتا ہے۔