فهرس الكتاب

الصفحة 4118 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: جس شخص کو اہمیت نہیں دی جاتی

4118 حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ الْحَارِثِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَذَاذَةُ مِنْ الْإِيمَانِ قَالَ الْبَذَاذَةُ الْقَشَافَةُ يَعْنِي التَّقَشُّفَ

حضرت ابو امامہ حارثی ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ سے فرمایا:'' سادگی ایمان میں سے ہے''۔

راوی نے کہا:سادگی سےمراد معمولی لباس و غذا پر اکتفا کرنا ہے۔

1۔ مذکورہ روایت کو یمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابی داؤد کی تحقیق میں اسے حسن قراردیا ہے۔دیکھیے: سنن ابو داؤد (اردو) طبع دارالسلام حديث:4161) علاوہ ازیں شیخ البانیؒ نے اس حدیث پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے حسن قراردیاہے۔بنا بریں تحسین حدیث والی رائے ہی درست معلوم ہوتی ہے جیساکہ ہمارے فاضل محقق نے ایک جگہ حسن قراردیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للالباني رقم:341)

2۔ تکلفات سے پرہیز ایمان کا جز ہےلہذا سادہ عادات کا حامل عام نعمت پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہےجب کہ زیب و زینت کا عادی بعض اوقات ایک بڑی نعمت کو بھی اپنے معیار سے کم تر سمجھتا ہےاور شکر کے بجائے شکوہ کرنے لگتا ہے۔

3۔سادگی میں بہت چیزیں شامل ہیںمثلًا:پیوند لگا کر کپڑا پہن لینازمین پر بیٹھ جانا مفلس اور غریب کی بات سننے اور حتی الوسع مدد کرنے کو اپنی شان کے خلاف نہ سمجھناغریب کی معمولی دعوت قبول کرلینا اور اس کا پیش کیا ہواسادہ کھانا کھا کر احسان مندی کا اظہار کرنا۔ملازموں سے تحقیر آمیز رویہ رکھنے سے اجتناب کرنااپنے سے کم تر درجے کے لوگوں کی خوشی اور غمی میں شریک ہونا وغیرہ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت