فهرس الكتاب

الصفحة 4235 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: امیدوار اور اجل

4235 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ مَعَهُمَا ثَالِثٌ وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَهُ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روا یت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فر یا اگر ابن آدم کے پا س ل کی دو دوا یا ں بھی بھری ہو ئیہ ہوں تو وہ چاہتا ہے۔ کہ ان کے ساتھ تیسری وادی بھی ہو ۔ اور انسا ن کا دل صرف مٹی سے بھر تا ہے ۔ البتہ جو شخص تو بہ کر ے اللہ اس کی تو بہ قبو ل فر تا ہے

1۔ مال کی محبت میں انسان میں فطری طور پر موجود ہے جس میں دنیا اور آخرت کی کئی مصلحتیں پوشیدہ ہیں تاہم اس میں ھد سے بڑھ جانا گمراہی کا باعث ہے۔

2۔ مال کی حرص جائز حد سے آگے بڑھ جائے تو حق تلفی بخل فرائض میں کوتاہی اور اس قسم کی دوسری کرابیوں کاباعث بن جاتی ہے اس لیے ان بد اعمالیوں سے بچنے کے لیے مال کی محبت کو جائز حد سے آگے نہیں بڑھنے دینا چاہیے۔

3۔ مال کی محبت کا علاج یہ ہے کہ فرض زکاۃ اور واجب اخراجات کے علاوہ بھی نیکی کی راہ میں زیادہ مال خرچ کرنے کی کوشش کی جائے۔

4۔ مال کی ناجائز محبت سے توبہ کرنا ضروری ہے۔

5۔دل مٹھی سے بھرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل زندگی بھر سیر نہیں ہوتا۔جب مٹی میں جائے گا اور قبر میں دفن ہوگا تب اس کی حرص ختم ہوگی اور دل سیر ہوگا کیونکہ وہاں ثواب اور عذاب کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس کے بعد دنیا کی طرف توجہ ممکن نہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت