4253 حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ
حضرت عبداللہ بن عمر و ؓ سے روا یت ہے نبی ﷺ نے فر یا بے شک اللہ تعا لی اس وقت تک بندے کی تو بہ قبول فر تا رہتا ہے ۔ جب تک نزع کا عا لم طا ری نہ ہو ۔
1۔نزع سے مراد روح قبض کرنے کاعمل شروع ہونا ہے۔2۔جب موت کے فرشتے ظاہر ہوجاتے ہیں۔تو عالم آخرت سے تعلق قائم ہوجاتا ہے۔اس لئے توبہ کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔3۔بند ے کو چاہیے کہ جلد از جلدتوبہ کرلے معلوم نہیں کب آخری وقت آجائے۔