4252 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ ابْنِ مَعْقِلٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّدَمُ تَوْبَةٌ فَقَالَ لَهُ أَبِي أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ
حضرت عبداللہ بن معقل ؓ سے روا یت ہے انھو ں نے فر یا میں اپنے والد (حضرت معقل بن مقرن ) کے سا تھ حضرت عبداللہ بن عمر کی خد مت میں حا ضر ہو ا ۔ میں نے انھیں سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ ﷺ نے فر مایا ندا مت تو بہ ہے ۔ میرے والد نے ان سے کہا کیا آپ نے نبی ﷺ سے (براہ راست ) سنا ہے کہ آ پ نے فر یا ندا مت تو بہ ہے انھو ں نے کہا ہا ں ۔
1۔ندامت توبہ کا اہم جز ہے۔2۔عالی سند کی طلب مستحسن ہے۔3۔اگر کسی چیز میں شک ہو تو استاد سے دریافت کرلینا احترام کے منافی نہیں۔