فهرس الكتاب

الصفحة 4316 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: شفاعت کا بیان

4316 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَدْعَاءِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَاكَ قَالَ سِوَايَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا سَمِعْتُهُ

حضرت عبد اللہ بن ابو جدعاء ؓسے روایت ہے۔نبی کریمﷺ نے فرمایا: میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت کی وجہ سے قبیلہ بنو تمیم ( کی تعداد) سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسول ! وہ آپ کے علاوہ کوئی اور ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے علاوہ (کوئی اور ہے۔ )

حضرت عبد اللہ بن شفیق ؒ نے کہا: میں نے کہا: کیا یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے آپ نے خود سنی ہے؟ حضرت عبد اللہ نے فرمایا: میں نے خود سنی ہے۔

۱ شفاعت کرنے والے مومن کا درجہ جتنا زیادہ بلند ھوگا۔ اسے اتنے ہی زیادہ افراد کی شفاعت کی اجازت ملے گی حتی کہ ایک آدمی کی شفاعت سے ایک قبیلے کی تعداد سے زیادہ افراد کو معافی مل جائے ۔

۲ بنو تمیم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قبیلہ ھے۔یہ امتی جس کی شفاعت سے اتنے لوگوں کو جہنم سے نجات ملے گی۔ممکن ھے وہ حضرت ابو بکر صدیق رض ہی ھوں۔ واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت