فهرس الكتاب

الصفحة 490 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: مذکورہ صورت میں وضو نہ کرنے کی اجازت

490 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ حَضَرْتُ عَشَاءَ الْوَلِيدِ أَوْ عَبْدِ الْمَلِكِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ قُمْتُ لِأَتَوَضَّأَ فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَكَلَ طَعَامًا مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ و قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بِمِثْلِ ذَلِكَ

امام زہری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ( خلیفہ) ولید یا ( خلیفہ) عبدالملک کے ساتھ رات کے کھانے پر موجود تھا۔ جب نماز کا وقت ہوا تو میں وضو کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ تو سیدنا جعفر بن عمرو بن امیہ نے فرمایا: میں اپنے والد ( عمرو ؓ) کے بارے میں توگواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں گواہی دی کہ آپ نے آگ سے تیار شدہ کھانا تناول فرمایا، اور پھر نیا وضو کیے بغیر نماز ادا فرمائی۔ (اس پر) علی بن عبداللہ بن عباس نے فرمایا: میں بھی اپنے والد (عبداللہ بن عباس ؓ) کے بارے میں یہی گواہی دیتا ہوں۔

گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ پختہ یقین کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں۔اس کا مقصد اپنے بیان کی تا کید ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت