فهرس الكتاب

الصفحة 506 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: مذی خارج ہونے سے وضوٹوٹ جاتا ہے

506 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ كُنْتُ أَلْقَى مِنْ الْمَذْيِ شِدَّةً فَأُكْثِرُ مِنْهُ الِاغْتِسَالَ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي قَالَ إِنَّمَا يَكْفِيكَ كَفٌّ مِنْ مَاءٍ تَنْضَحُ بِهِ مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ

سیدنا سہل بن حُنَیف ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے مذی کی وجہ سے بہت مشقت برداشت کرنی پڑتی تھی (کیوں کہ) میں اس کی وجہ سے بہت کثرت سے (بار بار) غسل کرتا تھا۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:''تجھے اس سے وضو کافی ہے۔'' میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو میرے کپڑے کو لگ جائے اس کا کیا کروں؟ فرمایا:''تجھے پانی کا ایک چلو کافی ہے۔ جہاں تیرا خیال ہے کہ وہ لگ گئی ہے وہاں (چلو بھر پانی) چھڑک دے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت