507 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَتَى أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَمَعَهُ عُمَرُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مَذْيًا فَغَسَلْتُ ذَكَرِي وَتَوَضَّأْتُ فَقَالَ عُمَرُ أَوَ يُجْزِئُ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر ؓ کے ہمراہ ابی بن کعب ؓ کے ہاں گئے۔ وہ (گھر سے) باہر تشریف لائے۔ (بات چیت کے دوران میں سیدنا ابی نے) فرمایا: مجھے مذی آگئی تھی تو میں نے عضو خاص کو دھو کر وضو کیا ہے۔ ( اس لئے باہر آنے میں دیر ہوئی) سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: کیا یہ ( وضو کر لینا) کافی ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: کیا آپ نے یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے (خود) سنا ہے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
یہ روایت اس سند کے ساتھ ضعیف ہے،تاہم صحیح احادیث کی روشنی یہ مسئلہ درست ہے کہ مذی سے غسل واجب نہیں ہوتا۔