526 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو السَّمْحِ قَالَ كُنْتُ خَادِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِيءَ بِالْحَسَنِ أَوْ الْحُسَيْنِ فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ فَأَرَادُوا أَنْ يَغْسِلُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُشَّهُ فَإِنَّهُ يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ
سیدنا ابو سمح ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی ﷺ کا خادم ہوا کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی خدمت میں سیدنا حسن یا حسین ؓ کو لایاگیا، (وہ اس وقت دودھ پیتے بچے تھے) انہوں نے نبی ﷺ کے سینہ مبارک پر پیشاب کر دیا۔ صحابہ کرام ؓم نے دھونا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پانی چھڑک دو کیوں کہ لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب سے پانی چھڑکا جاتا ہے۔''