فهرس الكتاب

الصفحة 538 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: مادہ منویہ کوکپڑے پر سے کھرچ دینا

538 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ نَزَلَ بِعَائِشَةَ ضَيْفٌ فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ فَاحْتَلَمَ فِيهَا فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِإِصْبَعِهِ رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِي

جناب ہمام بن حارث ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: سیدہ عائشہ ؓا کے ہاں ایک مہمان آگیا۔ انہوں نے (رات کو سونے کے لئے) اسے ایک زرد لحاف دلوادیا۔ اسے احتلام ہوگیا۔ ( صبح کے وقت) اسے اس بات سے شرم محسوس ہوئی کہ وہ کپڑا اس حال میں (ام المومنین کے پاس) بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو۔ اس نے لحاف پانی میں ڈبو کر ( گیلا کر کے) بھیج دیا ( تاکہ سارا لحاف گیلا ہونے کی وجہ سے وہ نشان نظر نہ آئے۔ صرف متاثرہ حصہ دھونے پر اکتفا نہ کیا) سیدہ عائشہ ؓا نے فرمایا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ (اب یہ اتنا موٹا کپڑا کب خشک ہوگا؟) اگر وہ اسے انگلی سے کھرچ ڈالتا تو کافی ہوتا۔ میں بھی بعض اوقات رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے یہ چیز اپنی انگلی سے کھرچ دیا کرتی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت