622 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ إِمْلَاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ وَكَانَ السَّائِلُ غَيْرِي أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً طَوِيلَةً قَالَتْ فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ قَالَتْ فَوَجَدْتُهُ عِنْدَ أُخْتِي زَيْنَبَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ وَمَا هِيَ أَيْ هَنْتَاهُ قُلْتُ إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً طَوِيلَةً كَبِيرَةً وَقَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا قَالَ أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ قُلْتُ هُوَ أَكْثَرُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شَرِيكٍ
سیدہ ام حبیبہ بنت جحش ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے طویل عرصے تک بکثرت استحاضہ آتا رہا تھا۔ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ آپ کو ( اپنی کیفیت ) بتاکر مسئلہ معلوم کروں۔ مجھے اپنی بہن زینب ؓا کے گھر رسول اللہ ﷺ مل گئے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔آپ نے فرمایا: ''اے خاتون! کیا کام ہے؟'' میں نے کہا: مجھے طویل عرصے تک بکثرت استحاضہ آتا رہتا ہے جس کی وجہ سے میں نماز روزہ ادا نہیں کر سکتی ،تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں تیرے لئے روئی تجویز کرتا ہوں، کیوں کہ وہ خون کو جزب کر لیتی ہے''۔ میں نے کہا: وہ تو اس سے زیادہ ہے۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث شریک کی حدیث کی مثل بیان کی۔
: روئی تجویز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ میں تجھے مشورہ دیتا ہوں کہ خون کی جگہ روئی رکھ کر اوپر سے کپڑا باندھ لےتاکہ خون اسی روئی میں جذب ہوتا رہے۔اور دوسرے کپڑے بار بار خراب نہ ہوں اورتو اطمینان سے نماز وغیرہ ادا کرلےیہ حدیث اور آگے آنے والی حدیث625معنًا صحیح ہیں کیونکہ دونوں صحیح روایات کے معنی ہیں۔