623 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَأَلَتْ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ قَالَ لَا وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ وَقَدْرَهُنَّ مِنْ الشَّهْرِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَصَلِّي
سیدہ ام سلمہ ؓا سے روایت ہے ،انہوں نے کہا: ایک عورت نے نبی ﷺ سے سوال کیا، اس نے کہا: مجھے استحاضہ آتا ہے تو میں پاک ہی نہیں ہوتی ۔ تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ''نہیں جتنے دن رات تجھے ( بیماری شرو ع ہونے سے پہلے ہر ماہ) حیض آیا کرتا تھا اتنے عصہ تک ( نماز) چھوڑ دیا کر۔'' ابو بکر ( بن ابو شیبہ) کی ایک روایت میں یوں ہے:'' اس مقدار کے مطابق مہینے میں سے، اس کے بعد غسل کر لے اور لنگوٹ باندھ لے پھر نماز پڑھ لے۔
1-یہ حکم اس صورت میں ہے جب عادت کی مقدار معلوم ہو۔
2۔استحاضہ کی طرح اگر کسی کو اور کوئی ایسی بیماری ہے جس میں اس کا وضو برقرار نہیں رہتا۔مثلًاہوا کا بار بار خارج ہونا یا پیشاب کے قطروں کا آنا تو ایسا شخص شرعًا معذور ہے۔وہ نماز نہ چھوڑے بلکہ ہرنماز کے لیے نیا وضو کرےاور اس سے ایک نماز سے متعلقہ فرائض''سنن اور نوافل ادا کرے۔
3۔یہ روایت بھی صحیح روایات کے ہم معنی ہونے کی وجہ سے صحیح ہے۔