فهرس الكتاب

الصفحة 625 من 4341

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل

باب: استحاضہ کی مریضہ عورت کو اگر یہ بیماری شروع ہونے سے پہلے کی مہانہ عادت کے ایام معلوم ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟

625 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي

سیدنا عدی بن ثابت انصاری ؓ اپنے والد سے، اور وہ عدی کے نانا سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ''استحاضہ والی عورت حیض کے ایام میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر لے اور ہر نماز کے لئے وضو کرے اور روزے بھی رکھے، نماز بھی پڑھے۔''

یہ روایت سندًا ضعیف ہے''البتہ دیگر شواہد کی بناء پر صحیح ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیے: (الارواہ''حدیث:207)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت