فهرس الكتاب

الصفحة 714 من 4341

کتاب: آذان کے مسائل اور اس کا طریقہ

باب: اذان کا طریقہ

714 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَتَّخِذَ مُؤَذِّنًا يَأْخُذُ عَلَى الْأَذَانِ أَجْرًا

سیدنا عثمان بن ابی العاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے مجھے سب سے آخر میں جو وصیت فرمائی تھی ، وہ یہ تھی کہ میں ایسا مؤذن مقرر نہ کروں، جو اذان دینے کی اجرت وصول کرے۔

1۔مؤذن کا تقرر امام کا منصب ہے۔

2۔حضرت عثمان بن العاص رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ نے یہ نصیحت اس وقت فرمائی تھی جب انھیں ان کے قبیلے کا امام مقرر کیا تھا۔ دیکھیے: سنن ابن داود الصلاة باب اخذ الاجر علي التاذين حديث:531 وسنن النسائي الاذان باب اتخاذ الموذن الذي لا ياخذ علي اذانه اجرا حديث:673)

2۔اجتماعی خدمت میں افضل یہ ہے کہ اجرت نہ لی جائے،تاہم اس کی خدمت کا مناسب معاوضہ دیا جائے تو مناسب ہےجیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب خلافت کا منصب سنبھالا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ امیر المومنین کے ضروری اخراجات بیت المال سے پورے کئے جائیں گے تاہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت وصول شدہ تنخواہ واپس کردینے کی وصیت فرمائی تاکہ ان کی یہ اجتماعی خدمت فی سبیل اللہ شمار ہو

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت