716 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَقِيلَ هُوَ نَائِمٌ فَقَالَ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ فَأُقِرَّتْ فِي تَأْذِينِ الْفَجْرِ فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ
سیدنا بلال ؓ سے روایت ہے کہ وہ فجر کی نماز کی اطلاع دینے کے لئے ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو معلوم ہوا کہ آپ ابھی آرام فر رہے ہیں۔ سیدنا بلال ؓ نے کہا: (الصلوة خیر من النوم، الصلوہ خیر من النوم) ''نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے۔'' تب یہ کلمہ فجر کی اذان میں مقرر کر دیا گیا، پھر اسی پر عمل جاری رہا۔
فائده: مذكوره روايت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سنداٍ ضعیف ہے۔جبکہ شیخ البانی ؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔دیکھیے: ( تخریج فقہ السیرۃ:203) نیز ( الصلوۃ خیر من النوم) کی بابت گزشتہ حدیث کا فائدہ ملاحظہ فرمائیں.