1015 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا
حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کیسے ہوتی تھی؟ انھوں نے فرمایا: آپ آواز کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔
یہ مطلب نہیں کہ بے جا کھینچتے تھے بلکہ جس حرف پر مد ہوتی تھی اسے لمبا کرکے پڑھتے تھے۔ مد والے حروف کو کھینچنے سے قراءت میں سکون اور ٹھہراؤ پیدا ہوتا ہے جسے ترتیل کہتے ہیں اور یہ ضروری ہے، اس سے قرآن کریم مں غور و فکر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ تیز تیز پڑھنا جس سے سوائے یعلمون اور تعلمون کے کچھ پتہ نہ چلے، مذموم قراءت ہے۔