فهرس الكتاب

الصفحة 5198 من 5761

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل

5198 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ أَبُو طَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ فَطَرَحَهُ ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ فَقَالَ مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ فَطَرَحَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ قَالَ مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا

حضرت بریدہ﷜ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبئ اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے لوہے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھ پر جہنمیوں کا زیور دیکھتا ہوں؟ اس نے اسے اتار پھینکا۔ پھر وہ آپ کے پاس آیا تو اس نے پیتل کی انگوٹھی ڈالی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھ سے بتوں کی بو پاتا ہوں؟ اس نے اسے بھی اتار پھینکا ( اور ) کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ نے فرمایا: چاندی سے اور اسے بھی ایک مثقال سے کم رکھنا۔

محقق کتاب کا اس روایت کی سند کو حسن کہنا محل نظر ہے کیونکہ اس کی سند میں عبداللہ بن مسلم راجح قول کے مطابق ضعیف ہے اور کسی نے اس کی متابعت بھی نہیں کی۔ تفصیل کےلیے دیکھئے: ( ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی:38؍283) تاہم اس میں لوہے کی انگوٹھی کو جہنمیوں کا زیور قراردینے والا جملہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ تفصیل کےلیے دیکھئے، حدیث:5208 کے فوائد۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت