1404 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ وَكَانَ مِنْ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرَ ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ وَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنْ الْجُمُعَةِ
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو بھی شخص جمعے کے دن اس طرح طہارت کرے جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے، پھر اپنے گھر سے نکلے حتی کہ جمعے میں حاضر ہو اور خاموش رہے، یہاں تک کہ نماز پوری کرے، تو یہ گزشتہ جمعے سے اب تک ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔''
(۱) ''جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے'' سے مراد وضو ہو یا غسل ہر دو صورت میں مسنون طریقے سے ہی مذکورہ فضیلت کا حامل ہوگا۔ (۲) مندرجہ بالا فضیلت ان تمام کاموں کی بنا پر ہے جن کا حدیث میں ذکر ہے۔ چونکہ ان میں خاموش رہنا بھی داخل ہے، لہٰذا فضیلت کی نسبت اس کی طرف بھی کی جا سکتی ہے۔