کتاب: وضو کا طریقہ
115 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوحیہ وادعی سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا کہ آپ نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، اپنا چہرہ تین مرتبہ اور اپنے بازو بھی تین تین مرتبہ دھوئے۔ اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پیروں کو تین تین دفعہ دھویا، پھر فرمایا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابوداود اور جامع ترمذی کی تحقیق میں اسے صحیح قرار دیا ہے، نیز حدیث میں مذکور مسئلے کی دیگر صحیح احادیث سے تائید بھی ہوتی ہے۔ بنابریں راجح اور درست بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ روایت معنا صحیح ہے۔ واللہ أعلم۔ نیز دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔