2317 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ لِلْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ وَعَنْ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ
حضرت انس بن مالک قشیری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نبیﷺ کے پاس مدینہ منورہ آیا۔ آپ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: ''آو کھانا کھاؤ۔'' میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ نبیﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور نصاف نماز معاف فرما دی ہے۔ اور حاملہ اور بچے کو دودھ پلانے والی کو بھی۔''
حاملہ اور مرضعہ کو اگر مشقت محسوس ہو یا اپنے بچے کا خطرہ ہو تو انہیں روزہ چھوڑنے اور اس کی جگہ کفارہ دینے کی رخصت ہے۔ اگرچہ اس مسئلے میں اختلاف ہے لیکن یہ موقف راجح ہے۔ ابن عباس اور ابن عمر دونوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہی فتویٰ ہے اور سند بھی صحیح ہے۔ دیکھئے (سنن الدارقطنی: ۲/ ۲۰۷، مع التعلیق المغنی، مزید دیکھیے: سبل السلام مع تعلیق الالبانی: ۲/ ۴۵۳) روایت کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے دیکھئے احادیث: ۲۲۶۹، ۲۲۷۶۔