فهرس الكتاب

الصفحة 1077 من 5761

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان

1077 أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ح و أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ قَالَا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور مغرب کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔

صحیح بات یہ ہے کہ یہ قنوت نازلہ تھی جو آپ نے مختلف نمازوں میں ضرورت کے وقت کی ہے مگر بعض حضرات نے اسے قنوت نازلہ کی بجائے صبح اور مغرب کی قنوت لازمہ قرار دیا ہے، یعنی ان دو نمازوں میں آپ ہمیشہ قنوت فرماتے تھے۔ مگر مغرب کی قنوت کے ترک پر تو اتفاق و اجماع امت ہے۔ کوئی محدث یا فقیہ بھی قنوت نازلہ کے علاوہ مغرب کی قنوت کا قائل نہیں، البتہ امام شافعی اور بعض محدثین (ہمیشہ) فجر کی قنوت کے قائل ہیں۔ اس روایت کو دیکھیں تو دونوں نمازیں برابر ہیں۔ اگر مغرب میں منسوخ ہے تو فجر میں کیوں منسوخ نہیں؟ اور یہی صحی بات ہے کہ قنوت نازلہ تو باقی ہے مگر قتنوت فرض (فجر اور مغرب کی قنوت) باقی نہیں ہے۔ جس روایت سے صبح کی نماز میں قنوت ثابت ہوتی ہے، اسے قنوت نازلہ پر محمول کیا جائے گا، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخر زندگی تک صبح کی نماز میں بوقت ضرورت قنوت نازلہ کرتے تھے۔ اس طرح سب احادیث میں تطبیق ہو جائے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت