فهرس الكتاب

الصفحة 4491 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب: وہ جانور جس کا دودھ دوہنا(دھوکا دینے کے لیے)روک دیا جائے

4491 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمْ الشَّاةَ أَوْ اللَّقْحَةَ فَلَا يُحَفِّلْهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص بکری یا دودھ والی اونٹنی بیچنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اس کا دودھ دوہنا بند نہ کرے۔''

''بیچنے کا ارادہ رکھتا ہو'' تاکہ خریدنے والے کو دھوکا نہ لگے، البتہ اگر بیچنے کا پروگرام نہ ہو اور دودھ تھوڑا ہو تو ناغہ کر کے دودھ دوہا جا سکتا ہے کیونکہ اس سے کسی کو دھوکا دینا مقصود نہیں۔ بعض کا خیال ہے دودھ پستانوں میں جمع رکھنے سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے، لہٰذا دودھ دوہتے رہنا چاہیے لیکن یہ شرعی کی بجائے طبی مسئلہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت