فهرس الكتاب

الصفحة 3801 من 5761

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل

3801 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ خَالِدٍ ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ قَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ مُتَعَمِّدًا وَقَالَ يَزِيدُ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ

حضرت ثابت بن صحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جو شخص جھوٹا ہونے کے باوجود عمدًا اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی قسم کھائے تو وہ ایسے ہی ہوگا جیسے اس نے کہا۔ اور جس شخص کسی چیز سے خود کشی کرلی' اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ میں اسے اسی چیز کے ساتھ عذاب دیتا رہے گا۔''

(۱) اس قسم کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کہے: اگر میں نے فلاں کام کیا ہو تو میں یہودی یا عیسائی وغیرہ ہوجاؤں' حالانکہ اس نے وہ کام کیا ہے اور اسے یاد بھی ہے۔ یا اگر میں یہ کام کروں تو میں یہودی یا عیسائی' جب کہ اس کی نیت ہو کام کرنے کی ہے' صرف دھوکا دہی کے لیے قسم کھاتا ہے۔ ظاہر ہے اس شخص نے یہودی یا عسائی ہونے کے پسند کیا ہے۔ گویا وہ یہودی یا عیسائی ہی ہے۔ (۲) ''عذاب دیتا رہے گا'' یعنی اس کی موت سے لے کر حشر تک۔ اس کے بعد اس کے مجوعی اعمال کی بنیاد پر اس کے جنت یا جہنم میں جانے کا فیصلہ ہوگا۔ یہ اس کی قسمت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت