3182 أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جو آدمی جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کسی غازی کو سامان مہیا کرے' اس نے بھی جہاد میں حصہ لیا۔ اور جو کسی غازی کی عدم موجودگی میں اس کے اہل وعیال کی ضرورت مہیا کرے' اس نے بھی جہاد کیا۔''
ہر آدمی جنگ کے لیے جاسکتا ہے نہ اس کی ضرورت ہی ہے' لہٰذا چند لوگ (مثلًا: فوجی) جنگ کو جائیں اور باقی لوگ ان کے لیے اور ان کے ایل وعیال کے لیے ضروریات مہیا کریں۔ اس طرح سب لوگ جہاد میں شریک ہوجائیں گے اور ہر شخص اپنی نیت اور کوشش کے مطابق ثواب کا مستحق ہوگا جیسے آج کل لوگ فوج میں بھرتی ہوتے ہیں اور دشمن کی روک تھام کرتے ہیں۔ باقی شہری ان کی تنخواہیوں' اسلحہ ودیگر ضروریات کے لیے ٹیکس دیتے ہیں۔ اس طرح پوری قوم جہاد کا فریضہ سرانجام دیتی ہے اور سب ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔