فهرس الكتاب

الصفحة 2856 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

2856 أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبیﷺ کے ساتھ تھا کہ اسے اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، جبکہ وہ محرم تھا۔ وہ فوت ہوگیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے (احرام والے) دو کپڑوں میں کفن دے دو۔ اسے خوشبو نہ لگاؤ، نہ اس کے سر کو ڈھانپو کیونکہ یہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔''

بیری کے پتے جسم کی صفائی اور نرمی کے لیے ہوتے ہیں۔ آج کل صابون وغیرہ یہی کام دے سکتے ہیں، لہٰذا بیری کے پتے کوئی ضروری نہیں، ہاں مسنون سمجھتے ہوئے صابن کے استعمال سے قبل یا بعد میں اس کا پانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ البتہ محرم میت کو چونکہ خوشبو لگانا منع ہے، لہٰذا خوشبو دار صابن محرم کے غسل میں استعمال نہ کیا جائے۔ عام میت کے غسل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حدیث کے باقی متعلقہ مسائل کے لیے دیکھیے فوائد حدیث: ۲۷۱۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت