2406 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَبَدًا أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى وَبِالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے پیارے حبیبﷺ نے تین باتوں کی نصیحت فرمائی اور ان شاء اللہ تعالیٰ میں انھیں کبھی نہیں چھوڑوں گا: مجھے نصیحت فرمائی کہ صلاۃ ضحی پڑھا کروں، وتر پڑھ کر سوؤں اور ہر مہینے سے تین روزے رکھوں۔
(۱) ''صلاۃ ضحی۔'' چاشت کی نفل نماز تاکہ انسان کے دن کی ابتدا نماز سے ہو۔ (۲) ''وتر پڑھ کر سوؤں۔'' تاکہ وتر محفوظ ہو جائیں۔ فجر سے پہلے اٹھنا یقینی نہیں ہوتا خصوصًا نوجوان طالب علم کے لیے۔ (۳) ''تین روزے۔'' تاکہ ہمیشہ روزہ رکھنے کا ثواب مل سکے۔ کمزوری بھی نہ ہو اور اخلاقی و روحانی اور جسمانی کمال بھی حاصل ہو۔