کتاب: وضو کا طریقہ
107 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ نَاصِيَتَهُ وَعِمَامَتَهُ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ بَكْرٌ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور آپ نے اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح فرمایا:
(راویٔ حدیث) بکر نے کہا: تحقیق میں نے یہ حدیث براہ راست حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے بھی سنی ہے۔
اس حدیث کی سند میں راوی بکر بن عبداللہ مزنی نے اپنے استاذ حضرت حسن بصری بیان کیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت انھوں نے خود ابن مغیرہ سے نہیں سنی، اس لیے وضاحت کر دی کہ میں نے پہلے یہ روایت حضرت حسن بصری کے واسطے سے سنی تھی، پھر براہ راست ابن مغیرہ سے بھی سنی، اس لیے دونوں طرح بیان کر دی۔ قربان جائیں محدثین کی اس دیانت اور امانت پر۔ رحمھم اللہ رحمۃ واسعۃ۔