4538 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا
حضرت ابن عمر ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اور مزابنہ ہے کہ تازہ کھجوریں (درخت پر گلی ہوئیں) تولی ماپی ہوئی خشک کھجوروں کے بدلے اور درخت پر لگے ہوئے انگور ماپے ہوئے منقی کے بدلے بیچے جائیں۔
مزابنہ کے منع ہونے کی وجہ یہ کہ کسی ایک فریق کو نقصان کا احتمال ہے۔ ممکن ہے درخت سے کم کھجوریں اتریں، ویسے بھی کھجوریں خشک ہو کر کم ہو جاتی ہیں۔