فهرس الكتاب

الصفحة 2829 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

2829 أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ كَانُوا فِي مَسِيرٍ لَهُمْ بَعْضُهُمْ مُحْرِمٌ وَبَعْضُهُمْ لَيْسَ بِمُحْرِمٍ قَالَ فَرَأَيْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ الرُّمْحَ فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي فَاخْتَلَسْتُ سَوْطًا مِنْ بَعْضِهِمْ فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَأَصَبْتُهُ فَأَكَلُوا مِنْهُ فَأَشْفَقُوا قَالَ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ قَالُوا لَا قَالَ فَكُلُوا

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (لوگ) اپنے ایک سفر میں جا رہے تھے۔ ان میں سے کچھ محرم تھے، کچھ غیر محرم۔ ابو قتادہ نے کہا کہ میں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو میں گھوڑے پر سوار ہوا۔ نیزہ پکڑا۔ میں نے ان سے مدد طلب کی مگر انھوں نے مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے زبردستی ان میں سے کسی سے کوڑا چھینا اور گدھے پر حملہ کر دیا۔ میں نے اسے شکار کر لیا۔ انھوں نے بھی اس سے کھا لیا، پھر انھیں ڈر محسوس ہوا (کہ کہیں یہ ناجائز نہ ہو) تو نبیﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا: ''کیا تم نے (شکار کی طرف) اشارہ کیا تھا؟ کیا تم نے کوئی مدد کی تھی؟'' انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ''کھا سکتے ہو۔''

رسول اللہﷺ کے سوالات سے معلوم ہوا کہ اگر انھوں نے اشارہ کیا ہوتا یا کچھ مدد کی ہوتی تو ان کے لیے وہ شکار کھان جائز نہ ہوتا اور یہی باب کا مقصد ہے کیونکہ اشارہ یا تعاون کرنا شکار کرنے کے مترادف ہے۔ اور شکار کرنا محرم کے لیے ناجائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت