فهرس الكتاب

الصفحة 500 من 5761

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

500 أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو خَلْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب گرمی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کو ٹھنڈی کرکے پڑھتے تھے اور جب سردی ہوتی تو جلدی پڑھتے۔

ابراد کے معنی ہیں: نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھنا، مگر حقیقتًا ٹھنڈا وقت مراد نہیں ہے کیونکہ وہ تو گرمیوں میں مغرب کے قریب ہوگا بلکہ نصف النہار کے مقابلے میں کچھ ٹھنڈا وقت مراد ہے، یعنی جب دیواروں کا سایہ پاؤں رکھنے کے قابل ہوجائے۔ سردیوں میں دن چھوٹے ہوتے ہیں، وقت کم ہوتا ہے، اول وقت سے تاخیر کی کوئی وجہ بھی نہیں ہوتی، اس لیے آپ نماز جلدی ادا فرماتے۔ مزید تفصیل کے لیے اسی کتاب کا ابتدائی ملاحظہ فرمائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت