فهرس الكتاب

الصفحة 2062 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

2062 أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے: [اللھم انی أعوذبک من عذاب القبر ……… و أعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال] ''اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے بچنے کے لیے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور آگ کے عذاب سے بچنے کے لیے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور زندگی و موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور (جھوٹے) مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔''

(۱) ''موت کے فتنے'' سے مراد ممکن ہے موت کے وقت شیطان کے بہکاوے میں آنا ہو یا قبر میں سوال و جواب کے وقت صحیح جواب نہ سوجھنا ہو۔ (۲) اس روایت میں عذاب قبر سے مراد دوسرے معنی ہیں۔ (دیکھیے، حدیث: ۲۰۵۸)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت