فهرس الكتاب

الصفحة 1376 من 5761

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل

1376 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ وَبُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَالسِّوَاكُ وَيَمَسُّ مِنْ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَقَالَ فِي الطِّيبِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جمعے کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر ضروری ہے۔ اسی طرح مسواک کرنا بھی۔ اور جو خوشبو اسے مل سکے، لگائے، خواہ وہ خوشبو عورت (اس کی بیوی) کی ہو۔''

(۱) ''واجب ہے'' اس روایت اور حدیث نمبر ۱۳۷۷، ۱۳۷۸ اور ۱۳۷۹ کے بموجب اہل علم کا ایک طبقہ جمعے کے دن غسل کے واجب ہونے کا قائل ہے جب کہ ایک بڑا طبقہ اس کے وجوب کا قائل نہیں لیکن پہلے طبقے کے اہل علم کی رائے نصوص صریحہ کے قریب تر ہے۔ واللہ أعلم۔ جیسا کہ تفصیل ابتدائیے میں گزر چکی ہے۔ (۲) مسواک عام حالت میں بھی مؤکد چیز ہے،جمعۃ المبارک کے لیے تو خصوصًا، خوشبو لگانا تو مؤکد بھی نہیں صرف مستحب ہے۔ (۳) عورتوں کی خوشبو (جس میں رنگ ہو) مردوں کے لیے جائز نہیں مگر مجبوری کی حالت میں گنجائش ہے، مثلًا: شادی کے موقع پر یا جمعۃ المبارک کے لیے۔ (۴) صفائی ایمان کا حصہ ہے۔ اسلام نے نظافت پر بہت زور دیا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا جسم، لباس اور مکان وغیرہ صاف ستھرا رکھے اور اگر کسیایسی جگہ جائے جہاں لوگ اکٹھے ہوں تو بالخصوص صفائی کا اہتمام کرے اور حسب استطاعت خوشبو وغیرہ کا استعمال کرے تاکہ لوگ اذیت محسوس نہ کریں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت