فهرس الكتاب

الصفحة 1147 من 5761

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان

1147 أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو سَهْلٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ بِمِنًى فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الْأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَأَنْكَرْتُ أَنَا ذَلِكَ فَقُلْتُ لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ إِنَّ هَذَا يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ فَقَالَ لَهُ وَهَيْبٌ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ نَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ وَقَالَ أَبِي رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ

ابو سہل ازدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن طاؤس نے منیٰ کی مسجد خیف میں میرے ساتھ نماز پڑھی۔ انھوں نے جب پہلا سجدہ کرنے کے بعد سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے کے سامنے اٹھائے۔ میں نے اس فعل کو درست نہ سمجھا۔ میں نے (اپنے ساتھی) وہیب بن خالد سے کہا کہ یہ ایسا کام کرتے ہیں جو میں نے کسی اور کو کرتے نہیں دیکھا۔ وہیب نے ان سے کہا، آپ ایسا کام کرتے ہیں جو میں نے کسی اور کو کرتے نہیں دیکھا۔ عبداللہ بن طاؤس نے کا: میں نے اپنے والد محترم کو ایسے کرتے دیکھا ہے اور انھوں نے فرمایا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسے کرتے دیکھا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نے فرمایا: ''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔

(۱) اس روایت کے راوی ابوسہل ازدی ضعیف ہیں، لہٰذا یہ حدیث غیر معتبر ہے، خصوصًا اس لیے کہ یہ انتہائی صحیح احادیث، جو کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتب احادیث میں مذکور ہیں، کے خلاف ہے۔ ان احادیث میں صراحتًا سجدوں کے درمیان رفع الیدین کی نفی آئی ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، الاذان، حدیث: ۷۳۵، و صحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: ۳۹۰) ان احادیث کو چھوڑ کر ایسی کمزور حدیث پر کسی مسئلے کی بنیاد رکھنا اہل علم کے شایان شان نہیں۔ (۲) سلف صالحین دین کے معاملے میں اس قدر حساس اور محتاط تھے کہ کوئی نئی ہوتی چیز دیکھ کر فورًا اس کا انکار کر دیتے یا اس کی دلیل پوچھتے۔ (۳) جس شخص سے اس کے کسی کام کے متعلق پوچھا جائے تو اسے غصے سے جواب نہیں دینا چاہیے بلکہ اس کی دلیل پیش کرکے حجت قائم کرنی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت