فهرس الكتاب

الصفحة 291 من 5761

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟

291 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا كَانَ بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ أَنَفِسْتِ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ هَذَا أَمَرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنَّ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہی کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ہمارا ارادہ حج ہی کا تھا۔ جب آپ مقام سرف پر تھے کہ مجھے حیض شروع ہوگیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ''تمھیں کیا ہوا؟ کیا تمھیں حیض شروع ہوگیا ہے؟'' میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: ''یہ چیز اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے، لہٰذا جو کچھ حاجی کریں، وہی تم بھی کرو، صرف بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔'' اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس حج میں) اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی

(۱) چونکہ حیض کی حالت میں، عورت کے لیے مسجد میں ٹھہرنا منع ہے اور طواف مسجد میں ہوتا ہے، لہٰذا طواف سے روکا گیا ہے۔ سعی بھی طواف کے تابع ہے، وہ بھی منع ہے۔ (۲) آپ کا اپنی عورتوں کی طرف سے گائے ذبح کرنا نفل ہوگا کیونکہ حج افراد کرنے والے پر قربانی فرض نہیں۔ ممکن ہے، بعض نے حج کے ساتھ عمرہ بھی کیا ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت