5208 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ ح وَأَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَيْقِيبِ عَنْ جَدِّهِ مُعَيْقِيبٍ أَنَّهُ قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيدًا مَلْوِيًّا عَلَيْهِ فِضَّةٌ قَالَ وَرُبَّمَا كَانَ فِي يَدِي فَكَانَ مُعَيْقِيبٌ عَلَى خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت معیقیب نے فرمایا: نبئ اکرمﷺ کی انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاندی کا خول چڑھایا گیا تھا۔ اور بسا اوقات وہ میرے ہاتھ میں رہتی تھی۔ ( اور حضرت معیقیبت رسول اللہﷺ کی انگوٹھی مبارک کی حفاظت پر مامور تھے۔)
1۔ امام نسائی نے جو ترجمۃ الباب قائم کیا ہے اس کا مقصد یہ اہم مسئلہ بیان کرنا ہے کہ چاندی کا خول پڑھی لوہے کی انگوٹھی پہننا شرعًا جائز ہے۔ مطلقًا لوہے کی انگوٹھی پہننے سے گریز ضروری ہے کیونکہ اسے جہنمیوں کا زیور کہا گیا ہے۔ (الموسوعۃ الحدیثیۃ، مسند احمد:11؍69) ۔ 2۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل علم و فضل کی خدمت کرنا مستحب ہے، نیز آزاد آدمی سے بھی خدمت کرائی جاسکتی ہے بشرطیکہ وہ برضاورغبت کرنے پر راضی ہو۔ 3۔ سرکاری اور اسی طرح دیگر اہم اداروں کی ایسی مہریں جن کے ساتھ خطوط و دستاویزات پر مہر لگائی جاتی ہے، ان کی حفاظت کرنا ضروری ہے تاکہ انہیں کوئی غلط استعمال نہ کرے کیونکہ اس طرح تمام دستاویزات اور خطوط وغیرہ غیر معتبر اور ناقابل اعتماد قرار پائیں گے۔ واللہ اعلم