فهرس الكتاب

الصفحة 845 من 5761

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل

باب: نفل نماز کے لیے جماعت کرانا

845 أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ السُّيُولَ لَتَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي فَأُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَكَانٍ مِنْ بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَفْعَلُ فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْ الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ

حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری قوم کی مسجد اور میرے (گھر کے) درمیان بسا اوقات بارشی پانی حائل ہو جاتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھیں جسے میں نماز کی جگہ بنالوں۔ آپ نے فرمایا: ''ہم ایسے کریں گے۔'' جب (اگلے دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو پوچھا: ''تم کس جگہ چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟'' میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ ہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں تو آپ نے ہمیں دو رکعتیں (نفل) پڑھائیں۔

نفل نماز کی جماعت اتفاقًا ہوجائے تو کوئی حرج نہیں لیکن لوگوں کو دعوت دے کر نہ بلایا جائے، البتہ مخصوص نمازیں اس سے مستثنیٰ ہیں، مثلًا: نماز کسوف، نماز استسقاء، نماز عیدین اور نماز تراویح وغیرہ۔ ان کے لیے لوگوں کو بلانا جائز ہے کیونکہ ان کا سنت سے ثبوت ملتا ہے مگر ان کے لیے اذان و اقامت درست نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت