فهرس الكتاب

الصفحة 368 من 5761

کتاب: حیض اور استحاضےسےمتعلق احکام و مسائل

368 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ كُنَّا لَا نَعُدُّ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم زرد اور مٹیالے پانی کو کچھ نہیں سمجھتی تھیں۔ (حیض شمار نہیں کرتی تھیں۔)

(۱) مذکورہ حدیث سے ظاہرًا یہ معلوم ہوتا ہے کہ کدرہ اور صفرہ حیض نہیں، مگر یہ بات مطلقًا درست نہیں کیونکہ اس موضوع کی دیگر روایات کو جمع کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر زرد اور مٹیالا پانی حیض کے ساتھ ہوں تو سفید پانی آنے تک انھیں حیض ہی شمار کیا جائے گا، البتہ اگر حیض سے پاک ہو جائیں، غسل کرلیں، اس کے بعد مٹیالا یا زرد پانی شروع ہو جائے یا چند دن گزر جائیں پھر مٹیالا یا زرد پانی آئے تو وہ حیض نہ ہوں گے کیونکہ حیض کی ابتدا گاڑھے سیاہ خون سے ہوتی ہے، البتہ اختتام زرد یا مٹیالے پانی سے ہوسکتا ہے۔ جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے اور یہی درست ہے۔ (۲) استحاضے والی عورت ایام حیض ختم ہونے پر غسل کرلے، پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے۔ اس کا ایک وضو سے دو نمازیں پڑھنا درست نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت