فهرس الكتاب

الصفحة 969 من 5761

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل

باب: فرض نماز میں سجدۂ تلاوت

969 أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ سُلَيْمٍ وَهُوَ ابْنُ أَخْضَرَ عَنْ التَّيْمِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ يَعْنِي الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ سُورَةَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذِهِ يَعْنِي سَجْدَةً مَا كُنَّا نَسْجُدُهَا قَالَ سَجَدَ بِهَا أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا خَلْفَهُ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابو رافع سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی۔ انھوں نے سورہ (اذا السماء اتشقت) پڑھی اور اس میں سجدہ کیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ سجدہ ہم تو نہیں کیا کرتے تھے۔ تو انھوں نے فرمایا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سجدہ کیا جب کہ میں آپ کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، لہٰذا میں تو یہ سجدہ کرتا رہوں گا حتی کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو جاملوں (فوت ہوجاؤں) ۔

ابو رافع کا انکار مذکورہ سورت میں سجدے پر ہوسکتا ہے اور مطلقًا نماز میں سجدۂ تلاوت کرنے پر بھی۔ دونوں صورتوں میں اعتراض غلط ہے۔ مذکورہ صورت میں بھی سجدہ ثابت ہے اور نماز میں سجدۂ تلاوت کرنا بھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت